ابنا: ارنا کی رپورٹ کے مطابق میانمار میں مسلمانوں کی نسل کشی کے خلاف احتجاج کے طور پر ہندوستان کے
مسلمانوں نے دارالحکومت نئی دہلی میں میانمار کے سفارتخانے کے قریب مظاہرہ
کیا ۔ مختلف اسلامی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے ان مسلمان مظاہرین نے میانمار کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ میانماری مسلمانوں پر انتہا پسند بدھسٹوں کے وحشیانہ حملوں کی روک تھام اور اپنے ملک کے مسلمانوں کی نسل کشی روکے ۔ ان مظاہرین نے میانماری مسلمانوں کے قتل عام میں اس ملک کی حکومت کے ملوث ہونے کا الزام لگاتے ہوئے اعلان کیا کہ میانمار میں مسلمانوں کے ساتھہ امتیازی سلوک سنہ 1960 سے جاری ہے جبکہ سنہ 1982 میں میانمار میں ایک ایسا قانون پاس کیا گیا کہ جس کی رو سے میانماری مسلمانوں کو اس ملک کا شہری شمار نہیں کیا جاتا مگر یہ کہ وہ اس بات کو ثابت کریں کہ ان کے آباء و اجداد سنہ 1832 سے قبل، میانمار میں رہائش پذیر رہے ہیں۔ میانمار میں نسلی تطہیر کی نئی لہر گذشتہ سال فروری میں اٹھی جس میں منظم منصوبہ بندی کے تحت ہزاروں کی تعداد میں روہنگیائی مسلمانوں کو تہہ تیغ کیا گیا اور انھیں بھاری مالی نقصان بھی پہنچایا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ میانماری میں جاری مظالم سے تنگ آکر ابتک ڈیڑھہ لاکھہ روہنگیائی مسلمان ترک وطن کرکے بنگلہ دیش ۔ تھائیلینڈ اور ملائشیا میں پناہ لے چکے ہیں جہاں وہ سخت حالات میں زندگی بسر کررہے ہيں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲